An independent think-tank

Scholars called the need for studying proxy wars, warns against conflating with other conflicts

PR/Islamabad (urdu version below)

5 February 2019

There is a need to study the causes of proxy wars, and what are the potential impact of such wars on the overall conflict. These thoughts in a daylong international seminar on “Strategic Dimensions of Peace and Conflict in South Asia and the Middle East”, organized by Pak Institute for Peace Studies (PIPS), an Islamabad-based think tank, participated by prominent national and international scholars.

Prof. Shahram Akbarzadeh, Deakin University, Australia, argued there is significant gap in the literature on non-state actors. He called for empirical research, along with concrete policy suggestions, on the topic, so as to mitigate the conflicts in the region, in particular South Asia and Middle East.

Speakers grappled at the notion of non-state actors and proxy wars: PIPS director Muhammad Amir Rana said non-state actors often evoke memories of violent elements. This despite that as per definition, non-state actors include organizations working for human rights.

Prof. Syed Rifaat Hussain, Department of Government and Public Policy, NUST, said the term “proxy wars” is a contested notion.  There is no universal agreement on its definition. nor on the set of circumstances behind such wars. Interestingly, he said, proxy wars are as old as the phenomena of conventional war itself.

Speakers noted proxy wars are instruments of state power. As to why states go for it, it was argued, it is because they are often cheap undertaking to change the status quo.

Participants noted over the decades, much of the conflict involves non-state actors. Interstate conflict, on the other hand, has declined. In recent times, he said tit-for-tat tactics on behalf of such actors have reduced their appeal.

Dr. Ibrahim Fraihat, Doha Institute of Graduate Studies, Doha, termed proxy war as an arms conflict between two parties, though one of them is not directly involved. This way, domestic conflicts are escalated by external power intervention. At the same time, proxy war, if unresolved, can take the shape of conventional war, the most significant example was of Vietnam War. In contemporary times, he lamented, the Middle East has been rendered a stock market of proxy organizations.

William Gueriache, Associate Professor American University in the Emirates Dubai, said on surface, all states support open diplomacy and multilateralism. Yet the survival of patronage has paved the way for foreign intervention during conflicts in the whole Middle East.

Dr. Marwan Kablan, Director Policy Analysis at the Arab Center for Research and Policy Studies Doha, also hinted multiplicity of actors involved in Syrian conflict, calling it as mother of conflicts in the region. It was said that wars cannot be ended unless patron states achieve their interests.

Dr. Shaheen Akhtar, Professor National Defence University Islamabad focused on the apprehension of Pakistan about India’s involvement in Afghanistan. She said Pakistan’s uneasy relationship with Kabul reinforces a perception of encirclement while growing US-India strategic cooperation further aggravates these apprehensions.

Dr. Muhammad Riaz Shad, National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, said fighting through proxies gives states an opportunity of deniability.

# # #

نان اسٹیٹ ایکٹر کا مطلب صرف متشدد عناصر نہیں ہے ۔ حقوق انسانی کے ادارے اور عالمی امدادی ادارے بھی نان اسٹیٹ ایکٹر میں شمار ہوتے ہیں ۔ محمد عامر رانا ڈائریکٹر پپس

ڈیکن یونیورسٹی آسٹریلیا پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اسلام آباد کی میزبانی اور خطے کی سیکورٹی کے حوالے سے اہم عالمی کانفرنس  کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتی ہے۔ڈاکٹر شاہرام اکبر زادے پروفیسرآف الفریڈ ڈیکن انسٹی ٹیوٹ فار سٹیزن شپ اینڈ گلوبلائزیشن

پراکسی وار کی تاریخ  بھی روایتی جنگ کی تاریخ جتنی قدیم ہے ۔ جدید دور میں ریاستوں کے مابین براہ راست  جنگوں کے امکانات محدود ہوگئے ہیں ۔ ڈاکٹر رفعت حسین  ممبر قومی کمیٹی برائے خارجہ امور

اسلام آباد میں واقع پاک انسٹی ٹیوٹ  فار پیس اسٹڈیز  آسٹریلیا کی ڈیکن یونیورسٹی کے تعاون سے ایک روزہ عالمی کانفرنس جس کا عنوان ”امن اور تنازع کے تزویزاتی محرکات : جنوبی اایشیاء  اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں علاقائی کھلاڑیوں کے کردار کی تحقیقات”ہے، مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی ،جہاں ملکی و غیر ملکی ماہرین شرکاء سے خطاب کررہے تھے ۔

ایک روزہ عالمی کانفرنس میں تین سیشن ہوئے جس میں  صبح کے سیشن کی صدار ت  کے فرائض محترم ڈاکٹر شاہرام اکبر زادے پروفیسر آف انٹرنیشنل ریلیشنز الفریڈ ڈیکن انسٹی ٹیوٹ فار سٹیزن شپ اینڈ گلوبلائزیشن آسٹریلیا نے ،دوسرے سیشن کی صدارت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر سید رفعت حسین ممبر  وزیر اعظم کی قومی کمیٹی برائے  خارجہ امور نے سرانجام دیئے جبکہ تیسرے سیشن کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر دارا کونڈوٹ  ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو  مڈل ایسٹ ریسرچ فورم ڈیکن یونیورسٹی نے سرانجام دیئے۔

کانفرنس کے شرکاء میں ملکی اور غیرملکی اہل علم شریک ہوئے۔   اس کانفرنس کا انعقاد پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے ڈیکن یونیورسٹی کے تعاون سے کیا۔

پہلے سیشن کے آغاز پرپاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے کہا کہ آج 5 فروری ہے اور اسے پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ آج کا دن اس اہم عالمی معاملےپر تحقیقی گفتگو کے حوالے سے بہت اہم  ہے کیونکہ  کشمیر تنازع  کو بھی نان اسٹیٹ ایکٹر کا الزام لگا کر  عالمی سطح پر پیش کیا جاتا ہے  ۔ نان اسٹیٹ ایکٹر کا مطلب صرف متشدد عناصر نہیں ہے ۔ حقوق انسانی کے ادارے اور عالمی امدادی ادارے بھی نان اسٹیٹ ایکٹر میں شمار ہوتے ہیں ۔

ڈیکن یونیورسٹی سے آئے ہوئے ڈاکٹر شاہرام اکبر زادے نے کہا کہ ان کا ادارہ پپس کی جانب سے اہم عالمی معاملے پر تعاون اور اس کانفرنس کی  میزبانی پر شکریہ ادا کرتا ہے ۔  پہلے سیشن کے دوران ڈاکٹر رفعت حسین نے کانفرنس کے موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ  دہشتگردی کی مانند پراکسی وارز کی  بھی کوئی عالمی سطح پر متفقہ تعریف موجود نہیں ہے ۔  اس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جس قدر انسانی تاریخ پرانی ہے ۔ اگرچہ یہ کوئی  روایتی جنگ نہیں ہوتی تاہم یہ اس کی ہی ایک تبدیل شدہ شکل ہے ۔ جدید دور میں ریاستوں  کے مابین براہ راست جنگوں کے امکانات نہایت محدود ہوگئے ہیں ۔ آج کل کے زمانے میں ریاستوں  کے مابین  بڑھتے ہوئے پراکسی   تنازعات کی وجوہات میں نظریاتی اختلافات  ، ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں روایتی جنگ کے محدود  امکانات  اور ایسی لڑائیوں پر آنے والی کم لاگت شامل ہے ۔  ریاستیں اپنے سرکاری فوجیوں کے استعمال کے ذریعے  کھلے عام جنگ کے اعلان کی بجائے  ایسے تنازعات میں سرمایہ کاری کرتی ہیں جہاں   انہیں نان اسٹیٹ ایکٹر کی مدد سے اپنے مفاد ات حاصل کرنے کا موقع ملتا رہے ۔  انہوں نے اس کے لئے بھارت کی مثال دی اور کہا کہ 1971 میں بھارت نے مکتی باہنی کو نان اسٹیٹ ایکٹر کے طور پر استعمال کیا اور پاکستان کو کمزور کیا جبکہ نوے کی دہائی میں بھارت نے لبریشن آف ایلام تامل ٹائیگرز کے ذریعے سری لنکا میں میں اندرونی تنازع کو ہوا دیئے رکھی۔ دوحہ انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز  سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم فریحات نے مشرق وسطیٰ میں پراکسی وارز کی اہمیت کے متعلق بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں حز ب اللہ اور ایران کے درمیان پراکسی تعلقات ہیں اور حزب اللہ کے عہدیدار وں کو  ایرانی عہدیداروں کے مقابلے میں ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای  تک کہیں زیادہ آسان رسائی حاصل ہے کہ وہ جب چاہیں ان سے ملاقات کرسکتے ہیں ۔ شام کے تنازع کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  شام کےتنازع  کاپراکسی وار میں تبدیل ہونا ہی وہ واحد وجہ ہے کہ اب اس کا کوئی آسان اور جلد حل تلاش کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہاں دنیا بھر کے متحارب مفادات آپسی جنگ میں تبدیل ہوچکے ہیں اور اس  تنازع میں نہ صرف  خطے کی طاقتیں بلکہ عالمی طاقتیں بھی اپنے پراکسی گروہوں کے استعمال کے ذریعے آگ و  خون کو مزید بڑھا رہی ہیں ۔ اس کانفرنس سے خطاب کرنے والے دیگر ملکی و غیر ملکی ماہرین میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے وابستہ ڈاکٹر شاہین اختر ،  قائد اعظم یونیورسٹی  کے انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ڈاکٹر شبانہ  فیاض ، عرب سنٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی اسٹڈیز دوحہ سے وابستہ ڈاکٹر مروان قبلان ،  نمل یونیورسٹی اسلام آباد کے انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ڈاکٹر ریاض شاد ، سیرئین سنٹر فار پالیسی ریسرچ کے بانی ،چیٹہم ہاؤس  سے وابستہ ڈاکٹر ذکی میکے اور  مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر لکھنے والے معروف  فرانسیسی مصنف  ڈاکٹر ولیم گیورائیکے  شامل تھے ۔

کانفرنس کے تینوں سیشنز میں موجود نمایا ں حاضرین میں  ڈاکٹر قبلہ ایاز چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل،  سابق پاکستانی سفیر جناب سرور نقوی  سربراہ سنٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد  ، ڈاکٹر سعید رڈ  سمیت بہت سے اہم ماہرین شامل تھے ۔تمام شرکاء نے اس اہم کانفرنس  کے موضوع کو سراہا اور اس میں ہونے والی گفتگو پر اطمینان کا اظہار کیا ۔