An independent think-tank

0 423

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز،اسلام آباد کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی یہ رُوداد طلبہ مدارس کی غیر نصابی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتی ہے ، جو مدارس کے تعلیمی نظام کا اہم، مگر نظر انداز کیا گیا پہلو ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا مدرسے کے بند ماحول میں طلبہ مدارس کی یہ سرگرمیاں ان میں بنیاد پرستی کی وجہ تو نہیں ہیں؟ یہ مفروضہ قائم کیا گیا ہے کہ مدارس چونکہ رہائشی تعلیمی ادارے ہیں ، جہاں رہنے والے طلبہ معاشرے سے الگ تھلگ رہتے ہیں ، جس کے باعث مدرسہ کا ماحول پوری طرح ان کو اپنے حصار میں لیے رکھتا ہے۔
اس تحقیق سے ایک طرف تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ طلبہ اپنے اساتذہ کو پسند کرتے ہیں ، ان کے علم و عمل کے معترف اور ان کا حد درجہ احترام کرتے ہیں۔ طلبہ اور ان کے اساتذہ اپنے نصاب سے مطمئن ہیں اور ان کے مطابق وہ ان کے سماجی تعلقات پر کوئی قدغن نہیں لگاتا۔ درحقیقت وہ سماجی ذرائع ابلاغ و اخبارات سے بھی جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی پسندیدہ شخصیات یا کالم نگاروں میں مخصوص مذہبی یا مسلکی پہچان رکھنے والی شخصیات شامل نہیں ہیں بلکہ یہ پسندیدگی عوامی رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔
یہ مطالعہ مزید وضاحت کرتا ہے کہ طلبہ کی پسندیدہ کتب یا موضوعات میں مسلکی رنگ نہیں جھلکتا اور وہ فقہ یا عقائد کے اسباق کی بجائے قرآن، تفسیر، حدیث اور اصولِ حدیث کے مضامین میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

Comments
Loading...